نئی دہلی،26جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ا یس انڈیا)مرکزی وزیر ارون جیٹلی کی جانب سے دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کے خلاف دائر ہتک عزت کیس میں دہلی ہائی کورٹ نے کجریوال کے وکلاء سے جیٹلی کے خلاف قابل اعتراض الفاظ کا استعمال نہ کرنے کے لئے کہا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ آگے سے کجریوال کے وکیل قابل اعتراض الفاظ کا استعمال نہ کریں،ساتھ اس معاملے میں کجریوال پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے ہی وکیل رام جیٹھ ملانی نے خود کو اس کیس سے الگ کر لیا ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے کجریوال کے وکلاء کو کہا کہ قابل اعتراض الفاظ کے استعمال سے کورٹ کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ہائی کورٹ نے اس معاملے میں سماعت کے دوران کہا کہ ارون جیٹلی سے کراس ایگزامنیشن کے دوران کوئی بھی غلط لفظ استعمال نہ کیا جائے، ساتھ ساتھ قانون کے تحت جو سوالات ہوں وہی پوچھے جائیں۔سماعت کے دوران کورٹ نے اپنے تبصرے میں کہا کہ اروند کجریوال جیسا آئینی عہدے پر بیٹھے شخص کو اس طرح کی زبان استعمال نہیں کرنا چاہئے،اگر اس طرح کے عہدے پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے وکلاء کی جانب سے بھی ایسی باتیں کہی جاتی ہیں تو ہم عام عوام کو کیا جواب دیں گے،اس سے کورٹ کا وقارخراب ہوتا ہے۔کورٹ نے کیجریوال کے وکلاء کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کورٹ میں اس طرح کی نازیبا زبان کا استعمال دوبارہ کیا گیا تو معاملے کو رجسٹرار کے پاس بھیج دیا جائے گا۔دراصل جیٹلی ہتک عزت کے میں سماعت کے دوران رام جیٹھ ملانی نے جیٹلی کو لے کر کروک لفظ استعمال کیا تھا،جس کے بعد جیٹلی نے دوسرا ہتک عزت کا کیس کجریوال پر کر دیا تھا۔فی الحال کجریوال کے وکیل رہے رام جیٹھ ملانی نے پریس کانفرنس کر کے صاف کر دیا ہے کہ کروک لفظ استعمال انہوں نے کجریوال کے کہنے پر ہی کیا تھا، جبکہ کچھ دن پہلے ہائی کورٹ میں کجریوال نے حلف نامہ دیا تھا کہ رام جیٹھ ملانی کو ارون جیٹلی کے خلاف کروک لفظ کا استعمال کرنے کو نہیں کہا تھا۔